ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / اب شاذیہ علمی نے نیاتنازعہ پیداکیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نہیں بولنے دینے کاالزام،طلبہ کی تحریک پرتنقید

اب شاذیہ علمی نے نیاتنازعہ پیداکیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نہیں بولنے دینے کاالزام،طلبہ کی تحریک پرتنقید

Wed, 01 Mar 2017 20:20:28    S.O. News Service

نئی دہلی، یکم مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) فریڈم آف ایکسپریشن یا کہیں اظہار رائے کی آزادی کی مہم کا نیا چہرہ بنی دہلی یونیورسٹی کے کالج ایل ایس آر کالج کی طالبہ گرمیہرکور کی حمایت اور مخالفت میں رامجس کالج کے باہر لیفٹ پارٹیوں کی طلبہ تنظیموں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ  کے بعد اب بی جے پی نے تنازعہ کوہوادی ہے اوراے بی وی پی کی پیٹھ تھپتھپائی ہے۔ بی جے پی لیڈر شاذیہ علمی نے اب اس تنازعہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کوکھڑاکرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کچھ وہاٹس ایپ میسج کو شیئر کیا ہے اور دعویٰ کیاہے کہ کس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے پر جب انہیں مدعو کیا گیاتھا اور دباؤ میں بعد میں ان کا نام ہٹا دیا گیا۔شاذیہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا نام تک کارڈ میں مقررین کی فہرست میں شامل کیاگیا تھا۔ پہلے توپروگرام کا وقت بدلا گیا اور بعد میں میرا نام مقررین کی فہرست سے خارج کردیاگیا۔شاذیہ نے اپنے الزامات کے ساتھ کارڈ کی تصویر بھی شیئر کی ہے۔ شاذیہ نے کہا کہ پروگرام کے منتظمین کو یونیورسٹی میں ماحول خراب ہونے کے بارے میں خبردارکیاگیاتھا۔ اپنے اس ٹویٹ کے ساتھ ہی شاذیہ نے الزام لگایا ہے کہ اظہار کی رائے کی آزادی کے نام پردوہرامعیاراپنایا جا رہاہے۔
 


Share: